نئے تعلیمی سال کے آغاز کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام:
نئے تعلیمی سال کے آغاز کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام:

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ملک میں نیا تعلیمی سال شروع ہونے کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ ان لوگوں کے درجے بلند کرتا ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے۔ سورۂ مجادلہ، آيت 11
نئے تعلیمی سال کا آغاز اور اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں علم و ادب کے مراکز کا دوبارہ کھلنا، ایک ایسی نشاط، امید اور روشن اور شاندار مستقبل کی طرف قوم کی تیز رفتار پیش قدمی کی نوید ہے جسے جامۂ عمل پہنانا ایران کے عزیز فرزندوں اور اسلام اور اسلامی انقلاب کے مکتب سے تربیت پانے والوں کے توانا ہاتھوں میں ہے۔ یہی وہ نسل ہے جس کی طرف سے خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای عظیم الشان اعلی اللہ مقامہما بارہا اپنی امید کا اظہار کر چکے ہیں۔
اب جبکہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے ایک عظیم لشکر کے لیے نئے تعلیمی سال کا دروازہ کھل رہا ہے اور علم و حکمت کی راہ پر چلنے والے اللہ کی توفیق کی امید کے ساتھ علم، معرفت اور مہارت حاصل کرنے کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں، تو مناسب ہے کہ ہم غمزدہ والدین کے ساتھ ہمنوا ہو کر ایک بار پھر حالیہ مسلط کردہ جنگ میں شہید ہونے والے طلباء کی یاد منائيں اور انھیں خراج عقیدت پیش کریں۔ اس سال تعلیمی سال کے آغاز کے یادگار ایام ہمارے لیے اپنے آنجہانی فرزندوں کی جدائی کا غم تازہ کریں گے۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بعض طلباء، اساتذہ اور ٹیچروں کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی اور یہ غم، خیر و شر کے درمیان ٹکراؤ اور حق و باطل کے درمیان جنگ کی صحیح سمت کی طرف ہمارے ذہنوں کی رہنمائی کرے گا۔
آج اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ علم و تقویٰ، امید و اخلاق اور دانائی و توانائی سے خود کو لیس کرنے اور جہالت و تاریکی کے پردوں کو دور کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس کے بعد علم کی سرحدوں کو توڑ کر اور اس کی ترقی ساز چوٹیوں کو سر کر کے اسلامی مملکت ایران کی سربلندی کے لئے اپنا تاریخی فریضہ انجام دے سکیں۔ یہ اہم کام اس جگہ انجام پاتا ہے جسے ان کا دوسرا گھر شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے میں ان عزیزوں سے عرض کرتا ہوں کہ ہمیشہ اس کی حدود و حرمت کی بہترین انداز میں حفاظت کیجیے اور اپنی آگاہی و بصیرت کی سطح کو ہر ممکن حد تک بلند کرتے ہوئے اور اپنے رویوں اور طرز عمل کو سنوارتے ہوئے اسے اپنے وطن کی ترقی کا مرکز بنائیے۔ علم و ادب، نشاط اور امید کی اس پناہ گاہ میں اپنی کچھ سال کی حاضری کے موقع سے اپنی ذات کی زیادہ سے زیادہ نشوونما کے لیے فائدہ اٹھائیے، انسان کی زندگی کے سب سے اہم عنصر سے استفادہ جو خداوند عالم سے رابطے سے عبارت ہے، اپنے ہم نوع انسانوں، ہم وطنوں اور گھر والوں کے ساتھ روابط میں اضافہ اور علم حاصل کرنے اور مختلف مہارتیں حاصل کرنے کے میدان میں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ۔
اس مدت میں صحیح طریقے سے غور و فکر اور جدت طرازی کی مشق کیجیے اور ہمیشہ اپنے قومی تشخص کی جڑوں، اپنی عزت، اپنی ثقافتی خود مختاری، اپنی مادری زبان اور اسلامی نظام کے مقدس پرچم اور اس کی دیگر علامتوں کے محافظ بنے رہیے۔ بہت جلد وہ وقت آئے گا جب آپ کو معاشرے میں اپنا مناسب کردار تلاش کرنا ہوگا، اور اس وقت اسے بہترین انداز میں انجام دے کر آپ خود کو اور اپنے ملک کو سربلند کریں گے۔
اب ایسے دور میں جب تسلط پسندانہ نظام، خاص طور پر امریکا کی مجرم حکومت اور جعلی صہیونی نظام کی سفاکیت و بربریت عروج پر ہے، تقویٰ اور اخلاق کے ہمراہ علم سے حاصل ہونے والی طاقت ایک فولادی ڈھال اور شمشیر برّاں کی مانند ہے، جو انسانیت کے خلاف ان کے جارحانہ ہاتھوں کو کاٹ دیتی ہے۔ اب آپ ان کلاسوں میں حاضر ہوتے ہیں جن کی دلکش بنچوں پر آپ سے کچھ عرصہ پہلے بیٹھنے والی نسلیں آج وطن اور وقار کے دفاع کے مختلف محاذوں پر اسلامی مملکت ایران کے لیے عزت اور اقتدار پیدا کر رہی ہیں اور یہی لوگ آپ کے لیے آئيڈیل اور مشعل راہ ہوں گے، جس طرح ان سے پہلے بھی انھی کلاسوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو فداکاری کے نمونے، ملک کی عظمت کی نشانیاں اور بزرگی و شرف کے عظیم آئيڈیل شمار ہوتے ہیں۔
آخری بات ٹیچروں اور اساتذہ کے بارے میں ہے۔ ہم سب اپنی تعلیمی زندگی کے ہر مرحلے میں اپنے اساتذہ کے احسان مند ہیں۔ یہ عزیز اور محبوب طبقہ، جسے اکثر اپنے شاگردوں کے خالص ترین جذبات دکھائی دیتے ہیں، اس بات کا حقدار ہے کہ مختلف پلیٹ فارموں اور مواقع پر سب کی طرف سے ان کا احترام کیا جائے۔ جو خودداری اور قناعت عام طور پر ان میں دیکھی جاتی ہے، وہ متعلقہ ذمہ داروں کو ان کی موجودہ معاشی صورت حال کی طرف سے مطمئن نہیں کر سکتی۔ ان شاء اللہ دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اسے بہتر بنانے کے لیے مؤثر کوشش کی جائے گی، خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ معاملہ صرف ایک قانونی ذمہ داری پوری کرنے سے بڑھ کر ایک ایسی چیز ہے جو دل سے نکلتی ہے۔
خداوند عالم کا سلام، رحمت اور برکت ہو مسلط کردہ تیسری جنگ کے شہید اساتذہ، ٹیچروں اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء پر اور ان سب میں سرفہرست ہمارے رہبر شہید و حکیم اور عظیم المرتبت مربی اعلی اللہ مقامہ پر جن کا ملک میں علم کی تیز رفتار ترقی پر بڑا حق تھا اور علم و دانش اور دین کے میدان میں تمام مربیوں، ٹیچروں اور اساتذہ کا شکریہ اور ایرانی قوم کے ایک ایک سعادت مند طالب علم کو مبارک باد اور خوش آمدید۔ امید ہے کہ ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بابرکت دعا کے ساتھ علم و ادب اور ترقی کی چوٹیوں تک پہنچنے میں وہ ہر طرح زیادہ سے زیادہ کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
22 ستمبر 2026