
دارالحکومت تہران میں میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول پر امریکا اور اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں درجنوں اسکولی بچوں کی شہادت کے موضوع پر ایران کے معروف فنکاروں کی پینٹنگس کی ایک نمائش منعقد ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں اس نمائش کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ان دنوں ایران کی سڑکوں پر صبح کے ابتدائی اوقات اور دوپہر کے وقت ایک خاص گہماگہمی ہوتی ہے۔ بچے اور نوجوان پیدل، والد کی موٹر سائیکل پر یا اسکول بسوں میں سوار ہو کر شہر کی سڑکوں سے گزرتے ہیں۔ اس ہجوم اور آمدورفت کے درمیان، تہران کے مرکز میں ایک اسکول نے کام کرنا شروع کیا ہے لیکن اس کی ہر چیز دوسرے اسکولوں سے الگ ہے۔ یہ اسکول پینٹنگ کے کینوس پر اور جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع اس اسکول کی یاد میں قائم ہوا ہے جس پر امریکی فوج نے بمباری کی تھی۔
ایرانی مصوری کے مختلف اسلوبوں کے بعض ممتاز ترین مصوروں نے امریکا کی فوج کے اس جرم کو کینوس پر اتارا ہے جو میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول پر حملے میں انجام دیا گیا، جس میں تقریباً 170 بچے اور ان کے ٹیچر شہید ہوئے۔ ان مصوروں کے ان فن پاروں کو ایک نمائش میں ایک ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
ماکان کی خالی قبر، آرٹسٹ: سیروس مقدم – 2026

پہلی پینٹنگ ایک خالی قبر کی داستان ہے۔ یہ قبر ایک ایسے بچے کے لیے بنائی گئی تھی جس نے اپنے تمام دوستوں سے زیادہ امریکی جمہوریت اور آزادی کی حقیقت دیکھی۔ تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ ماکان نصیری امریکی ٹاما ہاک میزائل کے گرنے کی جگہ سے سب سے قریب تھا اور اس بمباری کے تقریباً سات ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کے جسم اور لباس کا کوئی ٹکڑا تک نہیں ملا ہے، سوائے ایک جوتے کے۔ یہی جوتا بہزاد شیشہ گران کی پینٹنگ کا بھی موضوع ہے۔
باقی رہ جانے والا جوتا، آرٹسٹ: بہزاد شیشہ گران – 2026

اب ماکان کی فیملی کے پاس اپنے سات سالہ بیٹے کی، جو آج پرائمری اسکول کی دوسری جماعت میں جا سکتا تھا، صرف دل میں ایک یاد اور ہاتھ میں ایک جلا ہوا جوتا رہ گیا ہے اور یقیناً دنیا کے لوگوں کے لیے ایک بلند آہنگ پیغام بھی: امریکی آزادی اور جمہوریت کے نعروں کے غیر انگریزی زبانوں میں دلچسپ ترجمے ہیں: بم، تباہی، انسان کشی۔
اگلی پینٹنگ جنگ میں بچ جانے والی ایک بچی کی داستان ہے۔ عموماً جنگ کی اگلی صفوں میں موجود نوجوان اور مرد، جنگ کے بعد اپنے شہید ہونے والے ساتھیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس بار میناب کی ایک کم سن بچی مریم اپنی ہم جماعتوں کے بارے میں بات کر رہی ہے۔
مریم؛ غم کا سمندر، آرٹسٹ: سید علی میرفتاح – 2026

مریم نے میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کے کئی درجن معصوم فرشتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک فرشتے کی تصویر والی پینٹنگ اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہے اور اپنی آنکھوں سے اس انصاف کی متلاشی ہے اور اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہی ہے جو کئی برسوں سے فلسطینی بچے دنیا کے لوگوں سے پوچھتے آئے ہیں: آخر کس گناہ کی پاداش میں آپ نے میرے تمام دوستوں کو قبرستان بھیج دیا؟
اس پینٹنگ کے پس منظر میں میناب کے قبرستان کی تصویر ہے، وہ جگہ جس نے ایک ہی دن میں سیکڑوں بچوں کے اجساد کو اپنی آغوش میں لیا اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکا کی جارحیت پسند فطرت کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔
اس حملے میں بچ جانے والوں کی نمائندگی کرنے والی ایک اور پینٹنگ دیوار پر نظر آ رہی ہے۔ دو لڑکیاں جن کے لیے اب پڑھنے کے لیے کوئی اسکول نہیں۔ دو ایسی لڑکیاں جن کے چہرے نہیں ہیں اور جو امریکا اور صہیونی حکومت کی دہشت گردی اور جنگ پسندی کی قربانی بننے والے سبھی لوگوں کی نمائندہ ہیں۔
ہمارے ہم جماعت، آرٹسٹ: مصطفی قربانی – 2026

ہم ایرانی اپنی تاریخ اور اپنے انقلاب کو پیغمبر اسلام کی تحریک اور واقعۂ عاشورا کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ فطری بات ہے کہ ہمارے ذہن میں اس المیے کا صحیح مفہوم، دینی اور روحانی مفاہیم کے ساتھ ابھرتا ہے اور یہ چیز غم زدہ دلوں کے لیے مرہم بن جاتی ہے۔ شہادت وہ انجام ہے جس کی ہر مسلمان آرزو کرتا ہے اور بچوں کی شہادت، اگرچہ یہ بہت مظلومانہ ہے، بچوں کی زندگی اور وجود کا خاتمہ نہیں ہوگی۔
دو ہاتھوں کے درمیان، آرٹسٹ: حسین عینی بخش – 2026

میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کو، رہبر شہید کے گھر پر بمباری کے کچھ ہی منٹ بعد نشانہ بنایا گیا۔ شہداء کے قافلے میں میناب کے بچے، رہبر شہید کے اولین ساتھی تھے۔ حسین عینی بخش نے اسی کو اپنی پینٹنگ کا موضوع بنایا ہے، ایسی پینٹنگ جس میں شہید کی ماں اپنے خدا سے بات کر رہی ہے اور اس کی شہید بیٹی، امت کے باپ کا ہاتھ تھامے، اس دنیا سے سفر کر رہی ہے۔
وہ جو اسکول تھا، وہ جو اسکول ہے، آرٹسٹ: غلام علی طاہری – 2026

بلاشبہ اگر شہادت اور خدا کی رحمت پر یقین نہ ہوتا تو ایسی مصیبت کسی ملک کو جھکنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہوتی لیکن جو لوگ زندگی کو دنیا کی عمر تک محدود نہیں سمجھتے، وہ کسی بھی میدان میں شکست نہیں کھائیں گے۔
آسمانی بچے، آرٹسٹ: عبدالحمید قدیریان – 2026

عبدالحمید قدیریان نے اپنی پینٹنگ میں اسی حقیقت کی تصویر کشی کی ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں وہ مظلوم بچے جنھیں خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا، ایک دوسری دنیا میں پیغمبر اسلام کی شہید بیٹی کی آغوش میں جا رہے ہیں، ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ خدا کی نعمتوں اور ابدی سکون میں رہیں گے۔
میناب کا آسمان، آرٹسٹ: مصطفی گودرزی – 2026

ایرانی مصوری کی تاریخ میں مینیئچر کا اسلوب، آسمانی اور بلند مفاہیم کی نمائش کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مصطفی گودرزی نے اپنے اس فن پارے میں شہید بچوں کو ان کے اساتذہ کی آغوش میں آسمانوں کی طرف لے جاتے ہوئے دکھایا ہے تاکہ ان کی بے گناہی اور پاکیزگی کی انتہا کی تصویر کشی کر سکیں۔
دسویں دن کی دوپہر، آرٹسٹ: محمدعلی نادری – 2026

اور شاید وہ نمایاں ترین علامت جو میناب کے سانحے کو عاشورا سے جوڑتی ہے، بچوں کی مظلومیت ہو۔ عاشورا وہ دن تھا جب پیغمبر اسلام کے نواسے اور ان کے بچوں کو تخت خلافت کے غاصبوں نے انتہائی بے رحمی سے قتل کر دیا۔ ان کا قصور غاصب اور فاسق حاکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا تھا۔ محمدعلی نادری نے اپنی پینٹنگ "دسویں دن کی دوپہر" میں میناب کے بچوں کو واقعۂ عاشورا کی شیر دل خاتون حضرت زینب کی آغوش میں دکھایا ہے اور وہی پیغام دوبارہ بیان کیا ہے: ان لوگوں کا جرم سر نہ جھکانا تھا۔ اس پینٹنگ کا نام دو واقعات کی ہجری قمری تاریخ سے لیا گیا ہے۔ عاشورا سنہ 61 ہجری کے دسویں دن کا نام ہے اور میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول پر بمباری 1447 ہجری قمری کے ماہ رمضان کے دسویں دن ہوئی۔
اس بار میزائل کاغذی نہیں تھا ، آرٹسٹ: ماہیار چرمچی – 2026

ماہیار چرمچی اپنی پینٹنگ میں اس واقعے کی گہرے رنج و الم کی تصوی کشی میں کامیاب رہے ہیں۔ اس پینٹنگ نے گڑیوں اور کھلونوں کو ایک ساتھ رکھ کر انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اور اپنے نام کے ذریعے انسان کو مبہوت کر دیا ہے: اس بار میزائل کاغذی نہیں تھے۔
میناب کا اسکول بھی یکم مہر (23 ستمبر) کو کھل گیا لیکن اس کی کلاسوں میں طلبہ کے بجائے ایرانی مصوروں اور فن کاروں نے حصہ لیا۔ فن، اَن کہی باتوں اور شجرۂ طیبہ اسکول میں رونما ہونے والے انسانیت سوز جرم کو بیان کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کی داستان برسوں تک بیان کیے جانے کی ضرورت رہے گی، مزاحمت، مظلومیت اور عشق کی داستان۔
"اب جبکہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے ایک عظیم لشکر کے لیے نئے تعلیمی سال کا دروازہ کھل رہا ہے اور علم و حکمت کی راہ پر چلنے والے اللہ کی توفیق کی امید کے ساتھ علم، معرفت اور مہارت حاصل کرنے کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں، تو مناسب ہے کہ ہم غمزدہ والدین کے ساتھ ہمنوا ہو کر ایک بار پھر حالیہ مسلط کردہ جنگ میں شہید ہونے والے طلباء کی یاد منائيں اور انھیں خراج عقیدت پیش کریں۔ اس سال تعلیمی سال کے آغاز کے یادگار ایام ہمارے لیے اپنے آنجہانی فرزندوں کی جدائی کا غم تازہ کریں گے۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بعض طلباء، اساتذہ اور ٹیچروں کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی اور یہ غم، خیر و شر کے درمیان ٹکراؤ اور حق و باطل کے درمیان جنگ کی صحیح سمت کی طرف ہمارے ذہنوں کی رہنمائی کرے گا۔" (نئے تعلیمی سال کے آغاز کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی کے مورخہ 22 ستمبر 2026 کے پیغام کا ایک حصہ)
آخری پیریڈ/ آخری گھنٹی، آرٹسٹ: کاظم چلیپا – 2026

ایک سانحے کے غم کی کئی داستانیں، آرٹسٹ: ناصر سیفی – 2026

اسکول سے کچھ قدم پر، آرٹسٹ: سید مسعود شجاعی طباطبائی – 2026

گلستاں میں آگ، آرٹسٹ: مرتضیٰ اسدی – 2026

ایران، میناب کا سبق، آرٹسٹ: کامیار صادقی – 2026

ٹیچر کی آغوش، آرٹسٹ: حسن یاقوتی – 2026
