
کبھی کبھی خطوط، الفاظ اور سطروں کے درمیان موجود سفیدی ہی وہ واحد ذریعہ ہوتی ہے جس سے ہم ماضی میں کسی درخشاں حقیقت کا سراغ حاصل کر سکتے ہیں۔ دن اور رات تیزی سے یکے بعد دیگرے گزرتے جاتے ہیں اور واقعات اپنی تمام مختلف شکلوں اور نشیب و فراز کے ساتھ گم اور فراموش ہو جاتے ہیں۔ تاہم خطوط اور الفاظ تاریخ کے امانت دار ہیں۔
لفظوں میں باقی رہ جانے والی زندہ روح، جب چاہنے والوں کی گفتگو میں آتی ہے، تو تاریخ کی سب سے سچی راوی بن جاتی ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو خط لکھتا ہے اور اپنی پوری کیفیت اور احساس و جذبات کو الفاظ میں ڈھال دیتا ہے۔ خطوط مؤقر ہوتے ہیں اور الفاظ پاکیزہ۔
یہ وقار اور پاکیزگی چالیس سال گزرنے کے بعد بھی باقی ہے اور اس کی پرخلوص محبت اور خالص حکمت کی خوشبو روح کو تازگی بخشتی ہے۔ عظیم لوگوں کا ہم عصر ہونا ہمیشہ اس بات میں رکاوٹ بنتا ہے کہ ہم ان کے وجود کا شکر ادا کر سکیں۔ حقیقی شکر اس وقت ادا ہوتا ہے جب کسی چیز کے فقدان کی پیاس ہمیں بے چین کر دیتی ہے۔
ہمارے مرشد و آقا چلے گئے۔ ہم نے یکایک ان کی خالی جگہ کو دیکھا اور ان سے ملاقات کی عطش نے ایک بار پھر ہمیں یادوں کو تازہ کرنے کی طرف بڑھا دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر ان کی ساری باتیں سنیں، ان کی ساری تصویریں دیکھیں۔ ان کے تبسم کو دیکھیں۔ اور خبروں، کتابوں اور خطوط کے درمیان ایک بار پھر انھیں تلاش کریں۔


باپ، پیار، بیٹا
امام مجاہد شہید آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای قدس سرہ کا خط اپنے بیٹے آيت اللہ الحاج سید مصطفیٰ حسینی خامنہ ای کے نام، 29 جولائی 1986
بسمہ تعالیٰ
عزیز مصطفیٰ! امید ہے کہ تم بخیر و عافیت اور خوش ہو گے اور اس پاکیزہ و پرخلوص ماحول میں ذکر و توجہ میں غرق اور تعمیر نفس میں مصروف ہو گے۔ البتہ ہمیشہ کی طرح خدا کا لطف و کرم تمھارے شامل حال ہے اور ان شاء اللہ تم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاؤ گے۔ مشہد سے واپسی کے بعد تمھارا خط دیکھا، بظاہر اس پر 18 جولائی کی تاریخ درج تھی۔ مشہد میں میرا قیام سات دن رہا، آدھا وقت کام میں اور آدھا آرام میں گزرا۔ دونوں حصوں میں تمھاری جگہ خالی رہی، میں بچوں کو اپنے ساتھ نیشابور اور سبزوار لے گیا تاکہ وہ لوگوں کے بڑے اور پُرجوش اجتماعات میں خدا کی آیات اور برکتوں کو دیکھیں اور لوگوں کی عظمت کو، جو خدا کی قدرت کی ایک جھلک ہے، محسوس کریں۔ سیاسی مسائل کے بارے میں محتاط رہو، بحث و مباحثے کے جال میں نہ پھنسنا کہ اس میں نہ دنیا ہے نہ آخرت۔ کبھی کبھی کسی کی طرف اشارہ یا تصریح کیے بغیر ایک اصلاحی بات کہہ دینا برا نہیں ہے بشرطیکہ اس کے نتیجہ خیز ہونے کی امید ہو، ورنہ وہ بھی نہیں۔ اپنے آس پاس کے لوگوں کو تقویٰ، پرہیزگاری، عبادت اور یاد خدا کی دعوت دو، البتہ اس سبق کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ "لوگوں کو اپنی زبان کے بغیر اپنے عمل سے دعوت دینے والے بنو"۔ میں تمھیں عزیز و حکیم خدا کے سپرد کرتا ہوں۔
مطالعے اور کتاب کی نصیحت کے بارے میں کچھ مزید وضاحت کرو تاکہ ان شاء اللہ میں سمجھ سکوں کہ کیا کرنا چاہیے۔
29 جولائی 1986


شہید خامنہ ای کا مجاہد گھرانہ
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای دام ظلہ کا خط اپنے بھائی آیت اللہ الحاج سید مصطفیٰ حسینی خامنہ ای کے نام، 31 جولائی 1986
بسمہ تعالیٰ
بخدمت برادر عزیز، مجاہد محترم سید مصطفیٰ، آخرکار خط لکھنے کے ارادے کے عرصے بعد اس کام میں کامیاب ہوا۔ آپ کی جگہ خالی ہے، ہم مشہد میں زیارت اور ملاقاتوں کے سلسلے کے بعد سبزوار بھی گئے۔ لوگوں کا استقبال بہت اچھا اور حوصلہ افزا تھا۔ لیکن خیر، اس پاکیزہ و پرخلوص اور خدا کے عشق سے مملو ماحول میں ہماری جگہ بھی خالی ہوگی۔ کاش ہمیں ایک بار پھر اس مقام الٰہی میں حاضری کی توفیق ملے۔ تہران آنے کے بعد میں مسلسل درسی کتابیں فراہم کرنے اور مجاہدین کے کامپلکس میں رجسٹریشن کی تگ و دو میں رہا، یہاں تک کہ کل نام لکھوانے میں کامیاب ہوا۔ طے پایا ہے کہ سبھی لوگ ان دونوں خطوط کے آگے کچھ سطریں لکھیں اور میں بشریٰ اور ہدیٰ کی طرف سے بھی سلام پہنچا رہا ہوں۔ امید ہے کہ خداوند عالم کی توفیقات کے سائے میں آپ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دیں گے۔ آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا اور آپ کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔
والسلام
سیدمجتبیٰ
بدھ، 31 جولائی 1986