
"ناقابل تلافی" وہ لفظ ہے جسے رہبر شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے 10 اکتوبر 2023 کو، تاریخی طوفان الاقصیٰ آپریشن کے کچھ ہی دن بعد، صیہونی حکومت کی صورت حال کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہ ایسی شکست تھی جس نے ان کے بقول اس حکومت کے فوجی، سیکورٹی اور انٹیلی جنس ڈھانچوں کو اس طرح نقصان پہنچایا تھا کہ ان کی آسانی سے تلافی ممکن نہیں ہے:
"صیہونی حکومت کی حکمرانی کے ستونوں کو اس طرح نقصان پہنچا ہے کہ بہت بعید ہے کہ غاصب صیہونی حکومت، اپنے تمام تر شوروغل کے باوجود اور آج دنیا میں مغرب کی جانب سے کی جانے والی اس کی تمام تر حمایت کے باوجود، ان ستونوں کی بازیابی کر سکے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ سنیچر سات اکتوبر سے صیہونی حکومت، پچھلی والی صیہونی حکومت نہیں رہ گئي ہے اور اس نے جو چوٹ کھائي ہے، اس کی اتنی آسانی سے بھرپائي ممکن نہیں ہے۔"
اب سات اکتوبر کو ہونے والے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے تین سال بعد شاید اس سوال کو پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے اٹھایا جا سکتا ہے: کیا اس شکست کی تلافی ہو گئی؟
قرائن بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکا بلکہ سات اکتوبر کو جو کچھ شروع ہوا، وہ شکست کی ایک زنجیر میں بدل چکا ہے، ایک ایسی شکست جو غزہ کی سرحدوں سے باہر نکل کر سیکورٹی، سیاسی، سماجی، علاقائی اور حتیٰ کہ بین الاقوامی میدانوں تک پھیل گئی ہے۔
"ناقابل شکست اسرائیل" سے ہکا بکا رہ جانے والے اسرائیل تک
طوفان الاقصیٰ سے پہلے صیہونی حکومت کے بارے میں زیادہ تر یہی سوچا جاتا تھا کہ وہ ایک تقریباً ناقابل شکست فوجی اور انٹیلی جنس طاقت ہے، ایک ایسی حکومت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اس کی سرحدوں کے اطراف ہونے والی معمولی سے معمولی نقل و حرکت بھی اس کے انٹیلی جنس اور سیکورٹی اداروں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہتی لیکن آپریشن طوفان الاقصیٰ نے اس تصویر کو چکنا چور کر دیا۔
طوفان الاقصیٰ صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا، اس نے اس تصور کو شکست دی کہ "اسرائیل میں کوئی نقب نہیں لگا سکتا"۔ ایسا تصور جو صیہونی حکومت کے بانیوں کے بقول اس حکومت کی بقا کو جاری رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ فلسطینی مجاہدین حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کر کے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوئے اور اس ڈھانچے کو مبہوت کر دیا جو برسوں سے خود کو دنیا کے پیچیدہ ترین سیکورٹی نظاموں میں سے ایک کا حامل قرار دیتا تھا۔
اس واقعے کی اہمیت صرف آپریشنز کی تعداد یا فوجی نقصانات میں نہیں تھی، اصل اہمیت ایک سوچ اور تصور کو توڑنے میں تھی: یہ کہ اسرائیل ہمیشہ دیواروں، انٹیلی جنس سسٹمز اور فوجی برتری کے سائے میں اپنی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اس کے بعد مسئلہ صرف یہ نہیں رہا کہ اسرائیل ایک آپریشن میں مات کھا گیا ہے بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ کیا اسرائیل نے اپنی طاقت کے بارے میں جو تصویر بنائی تھی، اسے دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے؟
سات اکتوبر؛ سات عشروں کے غصے کا دھماکہ
تاریخی اعتبار سے طوفان الاقصیٰ کو اس صبر کے دھماکے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو فلسطینی معاشرے میں سات عشروں سے زیادہ کے عرصے سے اکٹھا ہو گیا تھا؛ قتل عام، قید، دربدری، گھر اور زمین سے محرومی اور غاصبانہ قبضے کے سائے میں زندگی کے کئی عشرے۔ سات اکتوبر اس معنی میں صرف ایک تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ وہ موڑ ہے جہاں ایک تاریخی حقیقت نے ایک بار پھر خود کو منوایا: مسئلۂ فلسطین نہ تو ختم ہوا تھا اور نہ ہی اسے ختم کیا جا سکتا تھا۔
صیہونیوں نے برسوں تک مسئلۂ فلسطین کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی لیکن طوفان الاقصیٰ نے دکھا دیا کہ جس مسئلے کو ختم شدہ سمجھا جا رہا تھا، وہ دوبارہ خطے اور دنیا کی تبدیلیوں کے مرکز میں کھڑا ہوا ہے۔ آپریشن طوفان الاقصیٰ نے امریکی-صیہونی ظلم کے خلاف مزاحمت کے مسئلے کو اس طرح مرکزی حیثیت دی کہ فلسطین کی حمایت میں لگنے والے نعرے بھی، صرف امن کا مطالبہ کرنے والے نعروں سے تبدیل ہو کر مزاحمت کی حمایت کرنے والے نعروں میں بدل گئے۔
وہ شکست جو غزہ تک محدود نہ رہی
اس شکست کی گہرائی کو اس وقت بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جب طوفان الاقصیٰ کے نتائج کو جنگ کے میدان سے آگے بڑھ کر دیکھا جائے۔ جنگ بڑی تیزی سے غزہ کی سرحدوں سے باہر نکل گئی۔ ایران، لبنان، یمن، عراق اور خطے کے دیگر محاذ اس مسئلے میں شامل ہو گئے اور وہ سیکورٹی جسے اسرائیل اپنی سرحدوں تک محدود ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک علاقائی مسئلہ بن گئی۔
اسی دوران سیاسی تعلقات بھی تبدیل ہوئے۔ ان ممالک کو، جو طوفان الاقصیٰ آپریشن سے پہلے اسرائیل کے قریب آنے یا اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے تھے، ایک نئی حقیقت کا سامنا ہوا۔ حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی، جنھوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات باقی رکھے، سیاسی فاصلے اور اعتراض آمیز موقف میں اضافہ ہوا۔ اس طرح جو چیز خطے میں اسرائیل کی پوزیشن مضبوط کرنے کی تمہید بننے والی تھی، وہ اسی پوزیشن اور حیثیت پر سوالیہ نشان لگنے کا سبب بن گئی۔
مسئلۂ فلسطین کو پھر عالمی حیثیت حاصل ہو گئی
فلسطینیوں کے لیے سات اکتوبر کی جو سب سے بڑی سیاسی کامیابیاں رہی ہیں، ان میں سے ایک مسئلۂ فلسطین کو عالمی رائے عامہ کی توجہ کے مرکز میں واپس لانا تھا۔ برسوں تک کوشش کی گئی کہ مسئلۂ فلسطین کو بین الاقوامی سیاست میں ایک ذیلی اور غیر اہم موضوع بنا دیا جائے لیکن آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد یونیورسٹیوں، ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں نے ایک بار پھر اس مسئلے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔
امریکا اور یورپ میں یونیورسٹیوں کے احتجاج سے لے کر مختلف ممالک میں طلبہ اور سماجی تحریکوں تک، لندن میں ہونے والے بڑے مظاہروں سے لے کر عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقا کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے تک مسئلۂ فلسطین ایک بار پھر عالمی رائے عامہ کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہو گیا۔
جنوبی افریقا نے، جو خود نسل پرستانہ نظام کے مصائب جھیل چکا ہے، عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ اس واقعے کا ایک سیاسی مفہوم بھی تھا اور وہ یہ کہ اسرائیل اب خود کو صرف تاریخ کے ایک مظلوم یا محصور جمہوریت کے طور پر پیش نہیں کر سکتا تھا، اس کا طرز عمل، عالمی سطح پر ایک سنجیدہ قانونی اور اخلاقی تنازعے کا سبب بن گیا۔
ایک جعلی حکومت کا سب سے نفرت انگیز ہونا
اقوام متحدہ میں بھی اس ماحول میں تبدیلی کے آثار دیکھے گئے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے دوران تقریباً ایک تہائی نمائندوں اور وفود نے واک آؤٹ کیا۔ اقوام متحدہ کی عملی اثر انگیزی سے قطع نظر، اس منظر کا ایک واضح علامتی پیغام تھا: اب حکومتیں بھی اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھنا چاہتیں اور اس سے تعلق رکھنے سے ڈرتی ہیں۔
شاید اقوام متحدہ اکیلے طاقت کے توازن کو تبدیل نہ کر سکے لیکن عالمی رائے عامہ، حتیٰ کہ مختلف حکومتیں بھی اب اسرائیل کے بیانیے کو بغیر سوال کیے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ خود اسی "ناقابل تلافی شکست" کے پہلوؤں میں سے ایک ہے: بیانیے کے میدان میں شکست۔
"مسئلۂ فلسطین کے خاتمے" کا بلبلہ پھٹ گیا
نیتن یاہو اور اسرائیل میں برسراقتدار سیاسی دھڑے برسوں سے اس تصور کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے کہ مسئلۂ فلسطین کو حل کیے بغیر فلسطینیوں کو کمزور، محصور اور سیاسی طور پر ختم کر کے اور پھر عرب و اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لا کر اسے حاشیے پر ڈالا جا سکتا ہے۔
طوفان الاقصیٰ نے اس حساب کتاب کو درہم برہم کر دیا۔ فلسطینیوں نے نہ صرف یہ دکھا دیا کہ وہ اب بھی موجود ہیں بلکہ یہ بھی دکھایا کہ مسئلۂ فلسطین اب بھی خطے کے سیکورٹی اور سیاسی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس اعتبار سے سات اکتوبر صرف ایک آپریشن نہیں تھا، یہ اس دعوے کا ثبوت تھا کہ دیوار، ٹیکنالوجی اور فوجی برتری کا مطلب لازمی طور پر ناقابل شکست ہونا نہیں ہے۔
داخلی خلیج، شکست دیواروں کے پیچھے تک پہنچ گئی
شاید صیہونی حکومت کی شکست کا اہم ترین پہلو وہ ہے جو کم ہی دکھائی دیتا ہے: خود اسرائیلی معاشرہ۔ اس حکومت کو، جو برسوں سے سیکورٹی کو اپنی سب سے اہم برتری قرار دیتی رہی ہے، داخلی بحرانوں، اجتماع و سماجی احتجاج، سیاسی تقسیم اور عوامی اعتماد میں کمی کا سامنا ہے۔
2023 میں عدالتی اصلاحات کے خلاف ہونے والے وسیع مظاہرے، جنھیں بعض تجزیہ نگاروں نے اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک قرار دیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ اس حکومت کے اندر سیاسی اور سماجی شگاف کس حد تک گہرا ہو چکا ہے۔
لبرل اور قوم پرست و مذہبی دھڑوں کے درمیان محاذ آرائی، اسرائیل کے سیاسی اور سماجی مستقبل کے بارے میں اختلاف اور حکومتی و سیکورٹی اداروں پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد، سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی مختلف تصویر پیش کرتے ہیں جسے ظاہر میں پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہونا چاہیے۔
اسی دوران انفرادی سلامتی کا مسئلہ بھی ایک بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ بعض داخلی رپورٹوں اور سروے رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو پولیس پر بہت کم اعتماد ہے اور یہ لوگ تشدد و عدم تحفظ کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں، شکست اب سرحدوں کے پیچھے نہیں رہی، گھروں کے اندر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد متحد نہیں ہوا۔ سوچا جا رہا تھا کہ آپریشن طوفان الاقصیٰ، اسرائیلی معاشرے کی طویل عرصے تک بے مثال یکجہتی پر منتج ہوگا لیکن اس آپریشن کے بعد جو تحقیقات ہوئیں، وہ اسرائیل کے اندر سماجی اور سیاسی شگافوں کے باقی رہنے بلکہ بعض شگافوں کے دوبارہ پیدا ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اگر کوئی معاشرہ اپنے سب سے بڑے سیکورٹی بحران کے بعد مستقبل کے بارے میں ایک مشترکہ تصور تک نہ پہنچ سکے، تو مسئلہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک زیادہ گہرا مسئلہ اس معاشرے کی سماجی یکجہتی سے متعلق ہے۔ لہذا سات اکتوبر نے ایک بڑے تضاد کو آشکار کیا: وہ معاشرہ جو خود کو دشمنوں کے درمیان ایک محفوظ قلعہ سمجھتا تھا، اب سلامتی، اعتماد اور تشخص کے بحران سے دوچار ہے۔
اسرائیلی رائے عامہ کو بھی "فتح" کا یقین نہیں ہے
حالیہ برسوں کے سروے بھی اس بحران کی ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ 2024 کی بعض سروے رپورٹوں کے مطابق اسرائیلیوں کی ایک نمایاں اکثریت غزہ میں "مکمل فتح" کے حصول کے امکان کو کم سمجھتی تھی۔ جنگ کے طویل ہونے اور خطے کے دیگر ممالک تک پھیلنے کے خدشے بھی معاشرے کے ایک بڑے حصے میں موجود تھے۔
2025 میں بھی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے امکان پر یقین کی شرح ایک عشرے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ باہمی اعتماد کا فقدان اسرائیلی رائے عامہ کی نظر میں بدستور امن کی راہ میں اہم ترین رکاوٹوں میں سے ایک تھا۔ یہاں تک کہ ایران کے ساتھ ٹکراؤ کے معاملے میں بھی، فوجی کارروائی کی حمایت کے ساتھ ہی جنگ سے باہر نکلنے کی اسٹریٹیجی نہ ہونے اور داخلی محاذ کی صلاحیت کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ تضاد اہم ہے: ممکن ہے کہ ایک معاشرہ جنگ کی حمایت کرے لیکن اسی وقت اسے فتح کا یقین بھی نہ ہو۔ اور شاید یہی چیز "ناقابل تلافی شکست" کی اہم ترین علامتوں میں سے ایک ہے۔
طوفان الاقصیٰ سے لے کر ایران کے ساتھ جنگ تک
ایران کے خلاف امریکی و صیہونی جارحیت، نہ صرف یہ کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد زوال پذیر صیہونی حکومت کے وجود پر لگنے والے مہلک زخموں کو بھر نہیں سکی بلکہ اس نے انھیں مزید گہرا کر دیا۔ اس ٹکراؤ میں سامراج نے پوری طاقت کے ساتھ اور اسلامی جمہوریہ ایران کو شکست سے دوچار کرنے کے مقصد سے میدان میں قدم رکھا لیکن نتیجہ اس کے اندازوں کے برخلاف یہ نکلا کہ امریکا اور صیہونی حکومت خود تصادم روکنے اور جنگ بندی کے لیے ہاتھ پیر مارنے لگے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں امریکا کے ٹھکانوں اور اڈوں اور صیہونی حکومت کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا اور ایک بار پھر ایران کی میزائل طاقت کے مقابلے میں اس حکومت اور اس کے سب سے بڑے حامی کی کمزوری کو آشکار کر دیا۔
بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا کے اکثر سیاسی، اقتصادی اور فوجی تجزیہ نگار امریکا کی ایران کے ساتھ حالیہ دو جنگوں کو امریکی بالادستی کے مکمل زوال کے اہم ترین عوامل میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ "ناقابل تلافی شکست" صرف ایک فوجی آپریشن کے بارے میں ایک لفظ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے عمل کی توصیف ہے جس کے اثرات اسرائیل سے آگے بڑھ چکے ہیں اور اس کے سب سے بڑے حامی تک کو متاثر کر چکے ہیں۔
درحقیقت طوفان الاقصیٰ اس عمل کا نقطۂ آغاز تھا، ایک ایسی ضرب جس نے صیہونی حکومت کی ہیبت کو توڑ دیا اور اسے ایسے راستے پر ڈال دیا جس پر ہر اگلی محاذ آرائی نے اس کی تلافی کرنے کے بجائے اس کے شگافوں کو مزید گہرا کر دیا۔ اس اعتبار سے ایران کے ساتھ ٹکراؤ میں جو کچھ ہوا، وہ اسی شکست کا تسلسل تھا، ایسی شکست جو غزہ سے شروع ہوئی اور ایران کے ساتھ براہ راست جنگ تک پہنچی اور امریکا اور صیہونی حکومت دونوں کو زوال کی ایک تیز ڈھلان پر لے آئی۔
مستقبل کی دنیا، فلسطین کی دنیا ہے
آپریشن طوفان الاقصیٰ کے تین سال بعد "ناقابل تلافی شکست" کا مفہوم پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ آپریشن طوفان الاقصیٰ صیہونی حکومت کے لیے صرف سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے میدان میں ایک شکست نہیں تھا بلکہ ایک ایسا شگاف تھا جس نے صیہونی حکومت کی طاقت اور ناقابل شکست ہونے کی اس کی تصویر، اس کی سماجی یکجہتی، علاقائی حیثیت اور بین الاقوامی اعتبار تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فلسطین اور مزاحمت کا نظریہ غزہ سے لے کر یونیورسٹیوں اور یورپ کی سڑکوں تک، عالمی رائے عامہ سے لے کر بین الاقوامی قانونی اداروں تک، ایک بار پھر عالمی مسئلے میں تبدیل ہو گیا۔
آپریشن طوفان الاقصیٰ نے دکھا دیا کہ کوئی بھی ناجائز سیکورٹی دیوار، چاہے اسے سامراجی حکومتوں کی کتنی ہی حمایت حاصل کیوں نہ ہو، کسی قوم اور تاریخی مظلومیت کو ہمیشہ کے لیے محصور نہیں کر سکتی اور کوئی بھی فوجی بالادستی فلسطین نامی حقیقت کو ختم نہیں کر سکتی۔ شاید اسی لیے آج ہم رہبر شہید انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کی اس بات کو، جو انھوں نے طوفان الاقصیٰ کے آپریشن کے کچھ ہفتے بعد کہی تھی، زیادہ گہرائی سے سمجھ سکتے ہیں: "مستقبل کی دنیا، غاصب صیہونی حکومت کی دنیا نہیں بلکہ فلسطین کی دنیا ہے۔
تحریر: علاقائی امور کے صحافی اور محقق، سید محمد کاظمی